امیری اور غریبی کی وجوہات

امیری اور غریبی کی وجوہات

اگر ہم انسان کو دیکھیں تو اصل میں انسان وہ نہیں ہوتا جو نظر آتا ہے انسان کی اصل پہچان تو اس کی سوچ ہے۔آپ امیر ہیں یا پھر آپ غریب ہیں آپ کامیاب ہیں یا آپ ناکام ہیں اس کا انحصار صرف اور صرف آپ کی سوچ پر ہے۔

بادشاہ اپنی بادشاہت کی وجہ سے بادشاہ نہیں بنتا بلکہ بادشاہوں والی سوچ سمجھ اور صلاحیتیں اس کو بادشاہ بناتی ہیں۔

دوسری طرف جو ایک فقیر ہے وہ اپنی سوچ کی وجہ سے فقیر ہے کیونکہ اس نے لوگوں سے مانگنے کے سوا کچھ سوچا ہی نہیں ہوتااور اگر اس کو بادشاہت دے بھی دی جائے توہ اسے سنبھال نہیں سکے گا۔

میری ریسرچ کے دوران مجھے ایک بہت بھی اہم بات کا پتہ چلا کہ اگر دنیا کی ساری دولت پوری دنیا میں برابر کی تقسیم کردی جائے تو پھر بھی کچھ لوگ ایک عرصے کے بعد غریب ہوجائیں گے اور کچھ لوگ پھر سے امیر ہوجائیں گے۔

اس دنیا میں کوئی امیر ہے اور نہ ہی کوئی غریب ہے یہ سب اپنے اپنے خیالات کا نتیجہ ہے۔ انسان حالات کی نہیں بلکہ خیالات کی پیداوار ہے لہذا انسان کو اس کی سوچ کی خوشحالی اور بدحالی ہی اسے امیر یا غریب بناتی ہے۔اس لئے آج میں آپ کو بتاتا ہوں کہ وہ کون سی وجوہات ہیں وہ کون سے لوگ ہیں جو امیر بن جاتے ہیں اور کچھ لوگ غریب ہی کیوں رہ جاتے ہیں۔

ایک امیر اور غریب کی سوچ میں کیا فرق ہے۔ امیر انسان کے سوچنے کے طریقے کیا ہیں اور غریب انسان کے سوچنے کا انداز کیا ہے۔کاروبار اور پیسے کی دنیا میں دوطرح کے لوگ پائے جاتے ہیں اور اگر ان دوطرح کی سوچ رکھنے والے لوگوں کی زندگی کے بار میں مطالعہ کیا جائے تو ہم اس امیری اور غریبی کے فرق کو آسانی سے جان سکیں گے۔دنیا میں دلچسپی کا موضوع یہ ہے کہ کچھ لوگ امیر کیسے ہوجاتے ہیں اور غریب جو ہیں وہ غریب ہی کیوں رہ جاتے ہیں۔

آئیے اب ہم یہ بات جاننے کی کوشش کرتے ہیں کے کچھ لوگ امیر کیسے بنتے ہیں اور بہت سے لوگ غریب ہی کیوں رہ جاتے ہیں۔وہ کون سی وجوہات ہیں وہ کون سے عوامل ہیں جو ایک ہی طرح کے انسانوں میں امیری اور غریبی کا فرق پیدا کرتے ہیں۔

۱۔ امیر لوگ زندگی کو ہمیشہ پلاننگ کے ساتھ گزارتے ہیں۔اُن کی زندگی میں کوئی مقصد ہوتا ہے وہ ہمیشہ اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے زندگی گزارتے ہیں۔

غریب لوگوں کی زندگی میں کوئی مقصد نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ وہ زندگی کو گزارنے کی بجائے زندگی ان کو گزارتی ہے۔

٭٭٭
۲۔ امیر لوگ اپنی زندگی کو خود تخلیق کرتے ہیں۔

غریب لوگ اپنی زندگی کو گزارنے کیلئے کوئی آسرا ڈھونڈتے ہیں۔

۔ امیر لوگ بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں اور ان خوابوں کی تکمیل کیلئے ان کو پورا کرنے کیلئے جیتے ہیں۔
اور غریب لوگ پہلے تو کوئی خواب دیکھتے ہی نہیں ہیں یا اگر ان کے خواب ہوتے بھی ہیں تو وہ بڑے خواب نہیں ہوتے اور ان کی سوچ کا دائرہ کارانتہائی محدود ہوتا ہے۔

۔ امیر لوگ اپنے کمفرٹ زون سے نکل کر کھیلتے ہیں وہ کسی بھی خطرے سے نہیں ڈرتے وہ گھبراتے نہیں ہیں بلکہ وہ اپنی لِمٹ سے بھی زیادہ کام کرتے ہیں۔ اور دوسری طرف غریب لوگ ان کو ہارجانے کا ڈر ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ کوئی بڑا رسک (خطرہ) نہیں لیتے تبھی اُن کو کامیابی بھی نہیں ملتی۔

۔ امیر لوگ ہمیشہ کاروبار کرنے کا سوچتے ہیں کوئی نئی پروڈکٹ بنانا چاہتے ہیں۔ کسی برانڈ کیلئے کام کرنا چاہتے ہیں اور اپنے وقت کا مناسب استعمال کرتے ہیں۔ اور غریب آدمی ہمیشہ مزدوری اور نوکری کی تلاش میں رہتا ہے جس کی وجہ سے اس کی حیثیت میں کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا۔

  امیر آدمی ہمیشہ اپنی زندگی کی ذمہ داری کو قبول کرتا ہے اور دوسری طرف غریب لوگ زندگی میں ناکامیوں کا ذمہ دار ہمیشہ دوسرے لوگوں کو اور حالات و واقعات کو ٹھہراتا ہے۔

۔ امیر لوگوں کو یہ دنیا مواقعوں کا بازار نظر آتی ہے۔

جبکہ غریب آدمی کو اس دنیا میں کسی بھی کام کا کوئی سکوپ نظر نہیں آتا بلکہ ان کو ہر جگہ پرروکاٹیں ہی نظر آتی ہیں۔

۔ امیر لوگ دوسروں سے حسد نہیں کرتے بلکہ اُن سے کچھ نہ کچھ نیا سیکھتے ہیں۔

اور دوسری طرف غریب لوگ ہمیشہ دوسروں سے جلتا ہے اپنی ساری توانائی اپنے آپ کو بہتر بنانے کی بجائے دوسروں سے حسد کرنے میں لگا دیتے ہیں۔

۔ امیر آدمی ہمیشہ کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا ہے وہ کچھ نہ کچھ سیکھتا رہتا ہے اپنی کاروباری صلاحیتوں کو اور اپنے اندر بہتری لاتا ہے۔

جبکہ اس کے مقابلے میں غریب آدمی ایک مخصوص دائرے تک ہی سیکھتا ہے اور اسی وجہ سے وہ کوئی بڑا کام نہیں کرپاتا یا پھر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر پاتا۔

۔ امیر لوگ ناکامی سے نہیں گھبراتے اور نہ ہی ناکامی کو اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھتے ہیں بلکہ وہ ناکامیوں سے سیکھتے ہیں اور یہی ناکامیاں آگے جاکر ان کو کامیاب بناتی ہیں۔

اور غریب لوگ کسی بھی ناکامی کے بعد مایوس ہوکر کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یہی چیز ان کی زندگی میں سب سے بڑی رکاوٹ کی وجہ ہوتی ہے۔

۔ امیر لوگوں کی کامیابی کا راز ان کے اردگرد کے لوگ ہوتے ہیں وہ خوشحال لوگوں سے دوستی کرتا ہے وہ انہیں ساز گار ماحول فراہم کرتا ہے۔

جبکہ غریب لوگ کامیاب لوگوں سے کتراتے ہیں اُن کے دوست بھی غریب ہوتے ہیں اور ان کی سوچ بھی محدود ہی ہوتی ہے جو کہ اُنہیں آگے بڑھنے سے روکتی ہے۔

۔ امیر لوگ اپنی ابتدائی کی زندگی میں جدو جہد کرتے ہیں اور جس کے نتیجے میں ان کی بعد والی زندگی آسان ہوجاتی ہے۔
اور غریب لوگ اپنی ابتدائی زندگی کا زیادہ تر وقت کھیل کود ، سیرو تفریح اور سونے میں گزار دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو بعد والی زندگی میں کولہو کے بیل کی طرح محنت کرنا پڑتی ہے۔

۔ امیر آدمی ہمیشہ فیڈ بیک لیتا ہے اس سے اپنے کام میں اور اپنے انداز میں بہتری لاتا ہے۔
اور غریب آدمی فیڈ بیک سے بچتا ہے اور اپنی غلطیوں کو تسلیم نہیں کرتا جوکہ اس کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ ہوتی ہے۔

۔ امیر آدمی ہمیشہ اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں پر بھروسہ کرتا ہے اور اِن دو چیزوں کی وجہ سے اس کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

اور دوسری طرف غریب آدمی ضروری مہارتوں کی کمی کی وجہ سے اپنی آمدنی میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کر پاتا۔

۔ امیر آدمی اپنی آمدنی سے بچت کرتا ہے اور اس بچت کو کسی کاروبار میں لگاتا ہے۔

اور دوسری طرف غریب آدمی اپنی آمدنی سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور بچت نہیں کرتا۔

۔ امیر لوگ پیسے سے پیسہ کماتے ہیں۔

اور غریب لوگ صرف پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ فضول خرچی کرتے ہیں اس لئے کامیابی سے ہمیشہ دور رہتے ہیں۔
بس یہ بات جان لیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔

کامیاب زندگی گزارنے اور امیر بننے کیلئے آپ کو اپنی سوچ کا انداز بدلنا پڑے گا۔ آپ کو فقط اپنی سوچ کو بدلنا ہے حالات کو بدلنے کیلئے خیالات کو بدلنا ہے جو کوئی مشکل کام نہیں یہ تو کوئی بھی کرسکتا ہے۔

اگر آپ بھی خود کو یا اپنے حالات کو بدلنا چاہتے ہیں تو ان وجوہات پر ضرور دھیان دیں۔ اِن پر ضرور توجہ دیں اور آج سے ہی اپنے غریبوں والے کام بند کردیں اور وہ کام کریں جو امیر لوگ کرتے ہیں۔

میرا آپ سے ایک سوال ہے کہ اگر امیر لوگ زندگی میں خوشحال ہوسکتے ہیں کامیاب ہوسکتے ہیں تو آپ کیوں نہیں امیر ہوسکتے آپ کیوں نہیں خوشحال ہوسکتے۔ آج ہی اِرادہ کر لو آج ہی اپنے آپ سے وعدہ کرلو کہ میں نے زندگی میں کامیاب ہونا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو امیر ہونے سے نہیں روک سکتی۔

سب سے اہم بات اللہ پر توکل بہت ضروری ہے اللہ سے ہمیشہ گِڑ گِڑا کر مانگتے رہیں اور اُس کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر اداکرتے رہا کرو۔اللہ بھی اُسی کو بدلتا ہے جو اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس لئے آج سے اپنے پرانے کام بند کرو اور ایک نئی زندگی کا آغاز کرو گھر میں فارغ بیٹھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے باہر نکلو کوئی نہ کوئی کام تو ہوگا جو صرف آپ ہی کرسکتے ہیں۔ ظاہری سی بات ہے اللہ نے آپ کو دنیا میں کسی نہ کسی مقصد سے بھیجا ہوگا کوئی نہ کوئی کام تو آپ سے کروانا ہوگا جو صرف آپ ہی کرسکو گے اس لئے یہ ضروری ہے کہ اپنے اندر کے چُھپے ہوئے ہنر کو اپنی صلاحیتوں کو پہچانوں اور کامیابی کی طرف قدم بڑھاؤ کیونکہ جو آپ سوچ سکتے ہیں وہ آپ بن سکتے ہیں آج سے ہی بڑا سوچنا شروع کردیں اس لئے کہ بڑی سوچ سے کامیابی بھی بڑی ہی ملتی ہے۔

کامیاب کاروبار کیسے کریں 

اپنا تبصرہ بھیجیں