خواب کی طاقت (پاور آف ڈریم)

خواب کی طاقت (پاور آف ڈریم)
دنیا میں میں نے آج تک ایسا دیکھا ہے۔میری عمر ہوگئی ہے 28سال کیا چیز ایسی ہے جس سے کوئی لوگ کامیاب ہوجاتے ہیں اور کوئی لوگ کامیاب نہیں ہوتے۔ ایک چیز تو ایسی ہے اس دھرتی پر جس سے کچھ لوگ کامیاب ہوتے ہیں اور کچھ لوگ فیل ہوتے ہیں۔
جو کامیاب ہوئے وہ بھی 9مہینے میں پیدا ہوئے اور جو فیل ہوئے وہ بھی 9مہینے میں پیدا ہوئے اور یہ بات تو پکی ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ پارٹیشن نہیں کرتا ہوگا کہ ان لوگوں کو کامیاب کرنا ہے اور ان لوگوں کو فیل کرنا ہے۔اللہ تو سب کو ایک جیسا انسان بنا کر ہی بھیجتا ہے۔
کون ذمہ دار ہے؟
اور جب ہم خود فیل ہوجاتے ہیں تو ہم کسی نہ کسی پر الزام لگادیتے ہیں کہ یہ مُلک ایسا ہے، یہ معاشرہ ایسا ہے، ماں باپ ایسے تھے کہ جنہوں نے پیسے نہیں دئیے تعاون نہیں ملا تو کچھ نہیں ملا۔
لیکن اگر ہسٹری کو پڑھیں اور دیکھیں تو جتنے بھی لوگ کامیاب ہوئے ہیں یہ لوگ اس جگہ سے اُٹھے ہیں جہاں پر کامیابی کا کوئی موقع نہیں تھا۔
کوئی موقع نہیں تھا کہ وہ کامیاب ہوسکیں ……!
تو میں نے بہت باریکی سے اس کے بارے میں ریسرچ شروع کردی بہت سے لوگوں سے ملا اتنا سب کچھ کرنے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ ایک چیز تو ایسی ہے۔ اگر وہ چیز آپ کے پاس ہے تو دنیا میں کوئی آپ کی کامیابی کو روک نہیں سکتا اور اگر وہ چیز آپ کے پاس نہیں ہے تو دنیا کا کوئی بھی آدمی آپ کو کامیاب نہیں کرسکتا۔
کیا آپ جاننا چاہتے ہیں اس چیز کے بارے میں؟
وہ ایک اتنی اہم اور ضروری چیز ہے جس کا نام ہے “خواب ” یعنی ڈریم (سپنا)
میں بچپن سے سنتا آرہا تھا کہ زیادہ اونچے خواب نہیں دیکھنے چاہیے کیونکہ کبھی پورے نہیں ہوتے اور یہی سنتا آرہا تھا کہ اتنے پاؤں پھیلاؤ جتنی لمبی چادر ہو۔ میں سنتا آرہا تھا کہ بھائی خواب تو رات کے خواب ہوتے ہیں جو کبھی پورے نہیں ہوتے۔
خواب کیوں دیکھنا چاہیے ……؟
آج میں آپ کو بتاؤں گا کہ خواب کیوں دیکھنے چاہیے ، یہ خواب کیسے پورے ہوتے ہیں اور یہ خواب کیوں ضروری ہیں۔
کیوں؟
کیوں ایک آدمی کامیاب ہوجاتا ہے اور دوسرا آدمی فیل ہوجاتا ہے ……آخر کیوں؟
ایک ہی وجہ ہے۔
جو آدمی کامیاب ہوتا ہے اس نے اپنی زندگی میں کوئی خواب دیکھے ہیں۔اس کے پاس ایک Dream (سپنا) ہے۔ اس کے پاس ایک وجہ ہے،اس کے پاس کوئی گول ہے کوئی ٹارگٹ ہے، کوئی Strong Burning Desireہے۔
اور دوسرا ! وہ صرف یہ سوچتا رہتا ہے کہ یہ سب ممکن نہیں ہوسکتا۔ وہ صرف یہ دیکھتا رہتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے اور یہ سوچتا رہتا ہے کہ شاید یہ میرے لئے نہیں ہے۔
کیا ہوتا ہے خواب (Dream) ؟
ہوسکتا ہے کہ آپ میں سے کچھ لوگ سوچتے ہونگے کہ نہیں یار کیوں خواب دیکھنا ہے یہ تو پورا ہی نہیں ہوسکتا۔
خواب (Dream)کسے کہتے ہیں؟
خواب (Dream) کا مطلب ہوتا ہے ایک گول (Goal)، ایک مقصد، ایک ٹارگٹ، ایک خواہش، کوئی تمنّا ……!
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ دھرتی پر 80%لوگ ایسے ہیں جو خوابوں (سپنوں) کے بارے میں سوچتے بھی نہیں ہیں اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ دنیا میں ہر ایک آدمی کو کام تو سپنوں کے لئے ہی کرنا پڑتا ہے۔
یہ الگ بات ہے کہ آپ کام اپنے سپنوں (خوابوں) کیلئے کرتے ہو یا پھر کسی اور کے خوابوں (سپنوں) کیلئے کرتے ہو۔ کام تو سپنوں کیلئے ہی ہوگا میرے دوستو!
کوئی اگر پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرتا ہے تو وہ اپنے مالک (Boss)کے سپنوں کو پورا کرنے کیلئے کام کررہا ہوتا ہے۔اگر کوئی گورنمنٹ سیکٹر میں کام کرتا ہے تو وہ اپنے اوپر والے افسران اور وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے سپنوں کیلئے کام کرتا ہے۔کوئی مزدور اگر تسّلے میں اینٹ بھر کر یہاں سے وہاں ڈال رہا ہے تو وہ اس آدمی کے خوابوں (سپنوں) کیلئے کام کررہا ہوتا ہے جس آدمی نے مکان بنانے کا خواب دیکھا تھا۔
کوئی بھی ہو ……! اس دھرتی پر کام تو سپنوں کیلئے ہی کرنا پڑے گا۔
یہ الگ بات ہے کہ تم اپنے سپنوں کیلئے کام کرتے ہو یا پھر کسی اور کے سپنوں (خوابوں) کیلئے۔
خواب (سپنے) کیسے ہونے چاہیے اہم بات یہ ہے۔
خواب ہونا چاہیے Emotional (جذباتی) جس کے پیچھے کوئی ایک وجہ ہو۔اس لئے ایک Emotional (جذباتی) خواب چاہیے وہ خواب اگر یاد آجائے تو آنکھوں میں آنسوں آجائیں۔ وہ خواب اگر یاد آجائے تو جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔وہ خواب اگر یاد آجائے تو آدمی چین سے بیٹھ نہ سکے۔اُسے کہتے ہیں اصلی خواب Dream۔
سوچو ذرا ……! کبھی آپ نے اس خواب کے بارے میں سوچا ہے؟
سوچا ہے کبھی؟
مجھے اسی بات پر ایک بہت اچھی کہانی یاد آگئی ہے اور یہ کہانی جب آپ پڑھو گے تو یقین کرو آپ اوچھل پڑو گے۔

“کتا اور خرگوش”
ایک کتا تھا اور ایک خرگوش تھا۔کتے کی نظر خرگوش پر پڑجاتی ہے اور کُتے نے خرگوش کو جیسے ہی دیکھا وہ خرگوش کو پکڑنے کیلئے لپکا۔
کُتا بہت تیزی کے ساتھ بھاگا تو خرگوش اس سے بھی زیادہ تیزی میں بھاگا۔ خرگوش بھاگتا جا رہا ہے، بھاگتا جارہا ہے کُتا بھی خرگوش کے پیچھے بھاگتا جارہا ہے۔خرگوش ایک چھوٹی سی بِل میں جا کر گھس گیا۔ کُتا اُسے نہیں پکڑپایا اس بِل میں ایک چھوٹا سا چھید تھا۔ خرگوش نے اسی چھید (سوراخ) میں سے منہ باہر نکالا تو کُتے نے اس سے ہانپتے ہانپتے پوچھا۔
کہ بھائی خرگوش میں تیرے سے طاقت میں بڑا ہوں، میں تیرے سے جسامت سے بڑا ہوں، میں تجھ سے زیادہ تیز بھاگ سکتا ہوں لیکن یہ کیا ہوا میں تجھے پکڑ نہیں پایا۔
خرگوش کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس نے ڈب ڈبائی آنکھوں سے کہا کہ کُتے بھائی تم اپنی غذا (کھانے) کیلئے دوڑ رہے تھے اور میں اپنی زندگی (جان) بچانے کیلئے دوڑ رہا تھا۔

……………………٭٭٭٭٭……………………

کام تو تو آپ کررہے ہو صبح سے شام تک چاہے ملازمت کررہے، چاہے کاروبار کررہے ہو، چاہے پڑھائی کررہے ہو لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ آپ یہ صرف اپنی غذا (خوراک) کیلئے کر رہے ہو یا پھر اپنی زندگی کیلئے کر رہے ہو۔
اگر تو آپ صرف دو وقت کی روٹی کیلئے کام کررہے ہیں تو کامیابی ملنا بہت مشکل ہے اور اگر آپ یہ سب اپنی زندگی بنانے کیلئے کررہے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہے جو آپ کو ہرا سکے اور آپ کی منزل تک نہ پہنچنے دے۔
خواب چاہیے مضبوط اور طاقتور اور یہ خواب اپنا ہونا چاہیے ، خود کا ! ذاتی خواب !
میرے خیال سے خواب وہ نہیں ہوتے جو آپ سوتے ہوئے دیکھتے بلکہ خواب تو وہ ہوتے ہیں جو آپ کو سونے نہیں دیتے۔
میں جب یہ کتاب لکھ رہا تھا تو میں سوچ رہا تھا کہ خواب (Dream)کی تعریف کیا ہے؟ میں نے بہت سوچا ، بہت پڑھا لیکن مجھے کہیں بھی خواب کی کوئی خاص تعریف نہیں ملی۔ آپ کو اگر کہیں ملے تو ضرور بتانا، مجھے تین دن لگے اس خواب کی تعریف لکھنے کیلئے جوکہ میں آپ دوستوں کو بتانا چاہتا ہوں۔
ہر انسان کے کام آنے والی ہے کہ کِسے کہتے ہیں آخر خواب ، خواب (Dream)ہوتا کیا ہے؟
”آج کے اس دور میں ناممکن سی دیکھائی دینے والی چیز …… میں پھر سے کہتا ہوں ناممکن نہیں، بلکہ ناممکن سی، اگر چیزیں ناممکن ہوتی تو کبھی پوری نہ ہوتی۔
کوئی بھی چیز ناممکن نہیں ہوتی بلکہ نا ممکن سی دیکھائی دیتی ہے کیونکہ کبھی تو وہ ممکن ہوجاتی ہے۔
میں ثابت کرونگا ابھی کہ آج کے اس دور میں ناممکن سی دیکھائی دینے والی چیز کے بارے میں سوچنا ! وہ ہے سپنا ، وہ ہے خواب ، وہ ہے Dream۔

1962میں کیننڈی (Kennedy)نے سوچا کہ ہم چاند پر جائیں گے اور واپس آئیں گے اہم بات ہے واپس آنا اگر وہ ادھورا سپنا دیکھتا کہ ہم چاند پر جائیں گے اور واپس آنے کے بارے میں سوچتے ہی نا تو وہیں آسمان میں لٹکے رہتے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاند پر جائیں گے اور واپس آئیں گے۔
1962ء میں یہ ناممکن نہیں تھا لیکن ناممکن سا تھا۔
اگر ناممکن ہوتا تو کبھی پورا نہیں ہوتا، لیکن 1962میں یہ چیز ممکن بھی نہیں تھی۔ کون سوچ سکتا تھا وہ بھی 1962ء کا زمانہ جو کہ پوسٹ کارڈ کا زمانہ تھا جس زمانے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پیغام پہنچانے کیلئے مہینوں اور کبھی کبھار تو سالوں لگ جاتے تھے۔
پھر بھی 1962ء میں کیننڈی نے سوچا کہ ہم چاند پر جائیں گے جوکہ ناممکن سا تھا لیکن کیننڈی نے سوچا اور جب کیننڈی نے سوچا تو وہ کیننڈی کا سپنا (خواب) بنا اور جب خواب بنا تو وہ پورا بھی ہوا ……ہاں یہ بات الگ ہے کہ اس کو پورا کرنے کیلئے اس کو کتنی بار ناکامی ہوئی ہوگی اور کتنی دن رات محنت کرنی پڑی ہوگی۔
پاکستان کا خواب کیوں نہیں بنا، پاکستان کیوں نہیں گیا چاند پر 1962ء میں کیونکہ پاکستان نے سوچا ہی نہیں تھا پاکستان سوچ لیتا تو پاکستان کا خواب بن جاتا جوکہ پورا بھی ہوجاتا۔

تھامس ایڈیسن نے سوچا کہ دن کی طرح رات بھی ہوسکتی ہے اس نے سوچا کہ جو دن میں روشنی ہے وہ رات میں بھی ہوسکتی ہے۔کیسے ہوگی ؟ پتہ نہیں ، معلوم نہیں کیسے ہوگی ، میں نہیں جانتا لیکن رات میں بھی روشنی ہوسکتی ہے۔ سوچا کب سوچا جب یہ ناممکن سا تھا ناممکن نہیں تھا۔ ایڈیسن نے سوچا تو وہ اُس کا خواب بنا اور جب اُس کا خواب بنا تو ایڈیسن نے اس کو پورا بھی کر دیکھایا بجلی بنا لی۔ اُس کو یہ خواب پورا کرنے کیلئے دن رات محنت کرنی پڑی کئی بار وہ فیل بھی ہوا لیکن اُس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے خواب کو پورا کرنے پر قائم رہا اور آخر کار اُس نے اپنے اس خواب کو پورا بھی کر دیکھایا۔
ہم بھی تو یہ بجلی بنا سکتے تھے لیکن نہیں بنائی کیونکہ ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔
سوچنا تو پڑے گا۔ کتنا بڑا سوچنا پڑے گا ! جتنی تمہاری طاقت ہو اتنا بڑا سوچنا پڑے جو سوچنے پر تمہارے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں اتنا بڑا سوچنا پڑے گا جس کے بعد تمہیں چین نہ آئے اور تمہارے پاؤں دھرتی پر نہ رُکیں، اتنا بڑا سوچنا پڑے گا۔

ایسے ہی دو بھائی تھے رائٹ برادرز (Wright Brothers)جنہوں نے سوچا کہ اگر یہ چیل ہوا میں اُڑ سکتی ہے یہ پرندے اُڑ سکتے ہیں تو انسان بھی اُڑ سکتا ہے اور اُنہوں نے ہوائی جہاز بنایا۔ میں پوچھتا ہوں آپ سے کہ ایک فٹ تو کوئی چیز اوپر اُڑ نہیں سکتی تھی لیکن اُن دو بھائیوں نے ہزاروں فٹ اوپر ہوائی جہاز کو اُڑ دیا۔کیا اُنہوں نے پہلے ہوائی جہاز بنایا اور بعد میں سوچا؟ ہرگز نہیں اُنہوں نے پہلے سوچا پھر اس کیلئے اپنے دن اور رات بھرپور محنت کی کئی بار ہوائی جہاز کو اُڑانے میں ناکام بھی رہے لیکن اُنہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے اس مقصد کو پورا کیلئے سچے دل سے محنت کرتے رہے اور وہ اپنے مقصد میں پورا بھی اُترے تبھی تو آج ہم ایک سے دوسرے مُلک میں ہزاروں میل کا سفر بڑی آسانی اور جلدی سے طے کر پاتے ہیں۔
میں اگر آپ میں سے کسی سے کہوں کہ بھائی صاحب چلو میرے ساتھ میں آپ کو سیکھاتا ہوں کہ دس لاکھ روپے کیسے کماتے ہیں تو آپ آگے سے دانت نکالیں اور بولیں کہ پہلے آنے تو دو پھر سوچیں گے۔میں اگر آپ سے کہوں کہ آپ امتحان میں ٹاپ کریں گے تو آگے سے دانت نکالیں اور کہیں کہ یہ ہوسکتا ہے کبھی۔
سوچنا تو پڑے گا دوست……!
مجھے بتاؤ دنیا میں وہ کون سا کام ہے جو پہلے ہوجاتا ہو اور بعد میں سوچنا پڑتا ہو۔
سوچو ! بہت بڑا سوچو ! اتنا بڑا سوچو جسے سوچنے سے ڈر لگتا ہو۔
1962ء میں کیننڈی (Kennedy)کو ڈر لگتا تھا چاند پر جانے کیلئے۔
Wright Brothersکو بھی ڈرلگتا تھا، ایڈیسن کو بھی ڈر لگتا تھا، قائد اعظم کو بھی تو ڈر لگتا ہو گا کہ پتہ نہیں دیس آزاد ہوگا یا نہیں یا پھر جب ہوجائے گا تب سوچیں گے۔
نہیں ! ایسا نہیں تھا پہلے علامہ اقبال ؒ نے خواب دیکھا کہ پاکستان ایک آزاد مُلک بن سکتا ہے تو قائد اعظم نے بھی پاکستان کی آزادی کیلئے سوچا اور اُس پر دن رات کی انتھک محنت کی اور آزادی حاصل کرنے کیلئے ہمیں کئی اپنے پیاروں کی جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑا پھر جاکر پاکستان ایک آزاد ملک بن سکا۔
بل گیٹس نے سوچا مائیکروسافٹ ونڈو بنانے کے بارے میں تو اُس نے ونڈو بنائی اُس نے پہلے سوچا پھر جاکر ونڈو بنائی۔
ڈاکٹر عبدالقدیر نے سوچا پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے بارے میں تو بنایا۔
اسی طرح سے عبدالستار ایدھی صاحب نے سوچا کہ میں ایک ایسی فاؤنڈیشن بناؤں جو کہ غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور بے سہاروں کیلئے پوری دُنیا میں انٹر نیشنل لیول پر کام کرے انہوں نے سوچا یعنی اس کو بنانے کا خواب دیکھا تو اُس کو پورا بھی کیا۔
عمران خان صاحب نے شوکت خانم کینسر ہسپتال بنانے کا خواب دیکھا اور اُس کو پورا بھی کیا۔
اسی طرح میں نے یہ خواب دیکھا کہ میں ایک کتاب لکھوں گا جس کو پورے پاکستان میں لوگ پڑھیں گے تو میں نے یہ کتاب لکھی کیونکہ میں نے اس بارے میں پہلے سوچا پھر اس کو پورا بھی کیا۔یہ بات الگ ہے کہ اس کو پورا کرنے کیلئے مجھے کتنی محنت کرنی پڑی کتنی راتیں جاگ کر گزارنا پڑیں اور آپ یقین نہیں کریں گے میں نے اس کتاب کو صرف ایک ماہ میں پورا کیا یہ میرے لئے ناممکن سا تھا لیکن ناممکن نہیں تھا۔
مجھے ڈاکٹرز نے بتایا کہ اگر دس ڈیسیمل کا درد ہو تو آدمی کی موت ہوجاتی ہے۔
لیکن جب کوئی عورت ماں بنتی ہے تو اُسے بارہ ڈیسیمل کا درد ہوتا ہے پھر بھی وہ زندہ رہتی ہے اور اپنے بچے کو جنم دیتی ہے ……کیوں ؟ کیوں ؟
کتنا مشکل ہے کہ ایک انسان اپنے پیٹ کے اندر دوسرے انسان کو پال کر رکھے اور نو مہینے تک اس کی حفاظت کرے وہ بچہ کبھی پیٹ میں ٹانگ مارتا ہے کبھی سر مارتا ہے۔ یہ تو اس ماں سے پوچھو! جو ماں اس بچے کو اپنے پیٹ میں رکھتی ہے اور ماں کو تو درد اُس وقت ہوتا ہے جب وہ بچہ اپنی ماں کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے یا پھر ماں کو گھر سے باہر نکال کر کسی اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آتا ہے۔تب اُس ماں کو یاد آتا ہے کہ اس کی کتنی ٹانگیں میں نے پیٹ میں برداشت کیں اس کو شاید یاد بھی نہیں ہوگا لیکن پھر بھی وہ ماں اپنے بچے کو یہ یاد نہیں کراتی کہ تیری ٹانگیں میں نے اپنے پیٹ میں برداشت کیں ہیں۔
کیوں ؟ آخر کیوں ؟
نو مہینے تک ماں کتنی تکلیفیں اٹھاتی ہے کتنے درد برداشت کرتی ہے۔

کبھی اُلٹی کرنے کو دل کرتا ہے، کبھی کھٹا کھانے کو دل چاہتا ہے، کبھی پریشان ہوتی ہے اور جب رات کو اپنے کمرے میں آتی ہے تھکی ہاری، چکنا چور تو اس کے کمرے میں ایک بڑا سا پوسٹر ہوتا ہے۔بہت خوبصورت سا ننھے منّے پیارے سے بچے کا اس بچے کو وہ آنکھ سے دیکھتی ہے آنکھ بھر کر وہ اس کو سما لینا چاہتی ہے اُسے سونگھتی ہے اُسے ہاتھ لگاتی ہے، اُسے محسوس کرتی ہے اور اس کی پوری کی پوری تھکان اُتر جاتی ہے کہ وہ اس بات کا خواب دیکھتی ہے کہ بس تھوڑے سے دن باقی ہیں کہ میرے گھر میں ننھے سے بچے کی کلکاریاں گونجیں گی اور وہ سوچ لیتی ہے کہ جب اس کا بچہ شادی کیلئے گھوڑی پر چڑھے گا تو وہ اُس کو کاجل لگائے گی۔وہ اُس ماں کا خواب اُس کی ساری کی ساری تکلیفیں اور دُکھ ختم کردیتا ہے۔
مشکلات تو آئیں گی ……!
بناؤ ایک خواب ، ایک وجہ جو تم اپنے آپ کو دیکھنا چاہتے ہو ، اس دھرتی پر یا اس دنیا میں کسی بھی شعبہ میں فرق اس بات سے نہیں پڑتا ہے کہ آپ کیا کررہے ہیں فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ وہ کام آپ کیسے کررہے ہیں۔
ہم ہر کام کو چھوٹا سمجھتے ہیں لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی بھی کام چھوٹا نہیں ہوتا بلکہ اس کام کو نا کرنے والے کی سوچ چھوٹی ہوتی ہے۔
کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کام چھوٹا ہے یا بڑا ہے۔ہاں اس بات کا فرق پڑتا ہے کہ وہ کام کس طریقے سے کیا جارہا ہے۔
اس لئے میرے دوستوں اپنی زندگی کو بغیر کسی خواب، بغیر کسی ٹارگٹ، بغیر کسی مقصد کے مت گزاریں کیونکہ میرے حساب سے جس کی زندگی کا کوئی ٹارگٹ یا مقصد نہیں ہوتا وہ مُردوں کی طرح ہوتا ہے۔
اس لئے اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔ اگر آپ امیر ہونا چاہتے ہیں۔ اگر آپ خوشحال ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی زندگی کا کوئی ٹارگٹ، کوئی مقصد بنانا پڑے گا۔
جب آپ اپنے اس مقصد، اپنے اس خواب کے بارے میں سوچیں گے تب آپ کو چین نہیں آئے گا اور جب آپ کو چین نہیں آئے گا تب آپ اس خواب کو پورا کرنے میں لگ جائیں گے اور ایک دن ایسا آئے گا کہ آپ اپنا وہ خواب، اپنا وہ مقصد ضرور پورا کر لوگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں