کامیابی کا عمر کیساتھ کوئی تعلق نہیں

کامیابی کا عمر کیساتھ کوئی تعلق نہیں
جی یہ بات بالکل درست ہے کہ کامیابی کا عمر کیساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا، کیونکہ کچھ لوگوں کا یہ سوچنا ہے کہ کامیابی 30سے 40سال کی عمر کے بعد ملتی ہے، یا پھر بڑھاپے میں جاکر ملتی ہے،کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں کامیابی ملنا ناممکن ہے۔ایسی ناممکن والی باتیں صرف وہی کرتے ہیں جو اپنی زندگی میں کچھ حاصل نہیں کرپائے اور یہ سب باتیں لوگوں نے اپنی طرف سے بنائی ہوئی ہیں کیونکہ کامیابی عمر کو دیکھ کر نہیں ملتی، کامیابی زندگی میں کسی بھی وقت کسی بھی عمر میں مل سکتی ہے۔
ان تمام باتوں کا جواب دینے کیلئے میں آپ کو بتانا چاہوں گا کہ پاکستانی بچی نے 9سال کی عمر میں مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ ایپلی کیشن ڈویلپر سرٹیفکیٹ لے کر پوری دنیا میں ریکارڈ قائم کیا ہے جسے ہوسکتا ہے آپ جانتے ہوں، یا ہوسکتا ہے نہیں، اگر جانتے ہیں تو آپ کو اُس بچی کی زندگی سے کچھ سیکھنا چاہیے کہ کیسے اُس نے چھوٹی سی عمر میں ہی کامیابی حاصل کی اور دنیا میں ریکارڈ قائم کردیا۔تو چلتے ہیں ہم اس بچی کے بارے میں شروع سے جانتے ہیں۔
وہ ایک ننھی سی پری کی طرح دنیا میں آئی۔ اس نے اپنی دلکش مسکراہٹ اور کمپیوٹر میں مہارت حاصل کرکے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنالی …… اور پھر ایک روز اچانک ایسا واقعہ ہوا کہ وہ کروڑوں چاہنے والوں کی آنکھوں کو نم کر کے اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔
وہ ننھی پری کوئی اور نہیں بلکہ ارفع کریم تھی جو کہ اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑھ کر کم سنی میں ہی فوت ہوگئی۔ارفع کریم ایک ایسی ہونہار اور ذہین پاکستانی بچی تھی جس نے اپنی قابلیت سے 9سال کی عمر میں آئی ٹی (IT) کی دنیا میں ایسا تہلکہ مچایا کہ نا صرف پاکستان بلکہ امریکہ اور یورپ میں بھی اُس کے چرچے ہونے لگے۔
ارفع کریم 1995؁ء میں فیصل آباد کے چک نمبر 4ج ب رام دیوالی میں پیدا ہوئی تھی۔اُس بچی نے 6سال کی عمر میں پہلی دفعہ کمپیوٹر دیکھا۔جب اُس نے کمپیوٹر دیکھا تو اُس کے دماغ میں کئی طرح کے سوالات نے جنم لیا۔اس نے دوسرے اپنی ہم عمر بچوں کی طرح کمپیوٹر کو صرف ایک گیم کھیلنے یا کارٹون دیکھنے والی مشین نہیں سمجھا بلکہ آہستہ آہستہ کمپیوٹر کے متعلق اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالوں کے جوابات حاصل کرنا شروع کردئیے۔


window.adsbygoogle ||

[]).push({});
جس عمر میں دوسرے بچوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مختلف شعبہ جات کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں ہوتا اس عمر میں ارفع کریم نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بارے میں وہ کچھ جان لیا تھا جو ایک ماہرِ کمپیوٹر کئی سالوں کی محنت کے بعد ہی سیکھ سکتا تھا۔
اپنے ایک انٹرویو میں ارفع کریم نے بتایا تھا کہ ”6سال کی عمر میں جب میں نے پہلی بار کمپیوٹر کو استعمال کیا تو تقریباً 2سال تک میرے اور کمپیوٹر کے درمیان سوالات اور جوابات کا سلسلہ چلتا رہا۔کمپیوٹر میں میرے شوق کو دیکھتے ہوئے میرے والد نے مجھے ہمارے گھر کے قریب ہی ایک کمپیوٹر کے ادارے میں داخلہ لے کر دیا۔جہاں پر میں نے بہت جلد کمپیوٹر کی پروفیشنل مہارت سیکھ لی اور MCP کے امتحان میں شامل ہوکر 9سال کی عمر میں مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ ایپلی کیشن ڈویلپر کا سرٹیفکیٹ حاصل کرکے پوری دنیا میں ریکارڈ بنایا“۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بے تاج بادشاہ بل گیٹس نے ارفع سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ بل گیٹس کی دعوت پر وہ اپنے والد کرنل (ر) امجد کریم کے ساتھ امریکہ میں مائیکروسافٹ کے ہیڈ کوارٹر میں گئی۔ بل گیٹس ارفع سے مل کر اس وقت بہت متاثر ہوا جب ارفع نے بل گیٹس سے پروفیشنل کمپیوٹر ماہرین کی طرح کئی پیچیدہ سوالات بھی کئے۔
جب ارفع بل گیٹس کے The Redmondکیمپس میں پہنچی تو وہاں خواتین کمپیوٹر پروفیشنلز کی تعداد کم دیکھ کر اس نے کہا ”میرا خیال ہے کہ خواتین کمپیوٹر ماہرین کی تعداد کو بڑھا کر ان کی شرح کو مردوں کے مقابلے میں برابر کیا جاسکتا ہے“۔
ارفع کریم کو 2005؁ء میں اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز نے سائنس و ٹیکنالوجی میں بہترین کارکردگی پر ”فاطمہ جناح گولڈ میڈل“ دیا تھا۔ اسی سال سابقہ صدر پرویز مشرف نے اُسے ”پرائیڈ آف پرفارمنس“ اور ”سلام پاکستان یوتھ ایوارڈ“ سے نوازا تھا۔
ارفع نے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اپنے ہنر کا لوہا منوایا تھا اس لئے اُسے کئی بین الاقوامی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا تھا۔ دبئی میں اسے آئی ٹی پروفیشنلز نے دو روزہ دورہ کی دعوت دی اور کئی میڈلز اور ایوارڈز دیئے۔ 10سال کی عمر میں ارفع نے دبئی میں فلائنگ کلب سے جہاز اڑانے کا سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا تھا اور ایک بارجہاز اڑایا بھی تھا۔
نومبر 2006؁ء میں مائیکروسافٹ کی بار سلونا کانفرنس میں 5000شرکاء میں ارفع کریم واحد پاکستانی مائیکروسافٹ پروفیشنل تھی۔ ارفع کمپیوٹر کی ماہر ہونے کیساتھ ساتھ ایک بہت اچھی شاعرہ بھی تھی اور انگریزی میں نظمیں لکھتی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ ارفع کو اللہ تعالیٰ نے اچھی آواز سے بھی نوازا تھا اور وہ گلوکاری میں بھی ایوارڈ لے چکی ہے۔
ارفع کریم جب لاہور گرائمر سکول میں سے اے لیول (A-Level)کے دوسرے سال کی تعلیم حاصل کررہی تھی کہ 22دسمبر2011؁ء کو اچانک اسے دل کا شدید دورہ پڑا۔ ارفع کو لاہور کے CMHہسپتال میں داخل کروایا گیا اور مصنوعی سانس سے زندہ رکھا گیا تھا۔اس دوران بل گیٹس نے اس کے علاج کے لئے خصوصی جہاز بھیجنے اور امریکی ڈاکٹرز سے علاج کرانے کی آفر کی لیکن یہ معصوم گڑیا صرف 16سال کی چمکدار اور روشن زندگی ہی لکھوا کر آئی تھی اس لئے 14جنوری 2012؁ء کو اس دنیا کو چھوڑ کر اللہ کی طرف روانہ ہوگئی۔
ارفع کی وفات پر نا صرف اس کی سہیلیاں، رشتہ دار اور والدین روئے بلکہ پاکستان اور بیرون ملک بھی اُس کے کروڑوں چاہنے والوں کی آنکھیں نم ہوگئیں۔


window.adsbygoogle ||

[]).push({});
وزیر اعلیٰ پنجاب جناب شہباز شریف نے ارفع کے جنازے میں شرکت کرکے کہا ”لاہور کے آئی ٹی پارک کو ارفع کریم پارک کا نام دیا جائے گا اور طالب علموں کو مفت لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب میں ارفع کے والدین مہمانان خصوصی ہونگے۔
ارفع کی وفات پر صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، میاں نواز شریف، چودھری شجاہت اور مختلف وزراء اور لاکھوں پاکستانیوں نے تعزیتی پیغامات ارفع کے والدین کو بھیجے ہیں۔
ارفع نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ”میں پاکستان میں ایک ایسا آئی ٹی کا شہر آباد کرنا چاہتی ہوں جہاں بچوں کو مفت کمپیوٹر کی تعلیم دی جائے۔ اس کے علاوہ ملک کے تمام سکولوں اور کالجوں میں کمپیوٹر لیب بنائے جائیں اور ہر طالب علم کو کمپیوٹر تک رسائی دی جائے“ ۔
مجھے لگتا ہے کہ ارفع کا یہ خواب ہم سب کو مل کر پورا کرنا چاہیے۔
اب تو آپ جان ہی چکے ہونگے کہ کامیابی کا عمر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ عمر میں چھوٹے ہیں یا بڑے ہیں بلکہ فرق تو اس بات سے پڑتا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اُس کیلئے کتنی محنت کرتے ہیں۔
آپ بھی اگر کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ایسا کام کریں جس سے آپ کے اس دنیا سے جانے کے بعد بھی آپ کا نام لیا جائے اور آپ کی مثالیں دی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں