کچھ بھی مشکل نہیں ہے

کچھ بھی مشکل نہیں ہے

ہم سب لوگوں کی یہ خواہش ہے کہ ہمارے لئے یہ زندگی آسان ہوجائے۔ہمارے مسئلے حل ہوں جائیں کوئی بھی کام مشکل نہ لگے اور تمام مشکلیں دور ہوجائیں تو یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سب ایسا کرسکتے ہیں میری رائے کہ مطابق بالکل نہیں کیونکہ جب تک ہم اس مسئلے کے پیچھے جڑی ہوئی کہانی کو نہیں سمجھیں گے دوسرے الفاظ میں کہوں تو اس کی سائنس کو نہیں سمجھیں گے تو مسئلہ ویسے کا ویسا رہے گا۔

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کوئی بھی کام مشکل کیوں لگتا ہے مشکل اس لئے لگتا ہے کیونکہ وہ کام ہمیں کرنا ہی نہیں آتا اس لئے تو ہمیں مشکل لگتا ہے درحقیقت دنیا میں کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا اس کو مشکل بناتے ہیں ہم خود کیونکہ ہم اس کام کو کرنا نہیں چاہتے اُس کام کو کرنے کے بارے میں سیکھنا نہیں چاہتے اس لئے وہ ہمیں مشکل لگتا ہے۔

ایک ماں سے زیادہ مشکل کام تو کوئی نہیں کرسکتا جو ۹ مہینے تک اپنے پیٹ میں بچے کو سنبھالتی ہے اور پھر اُس بچے کی پیدائش کے وقت اپنی جان کی بھی پراوہ نہ کرتے ہوئے اُس کو پیدا کرتی ہے دوسرے لفظوں میں کہوں تو وہ ماں سر پر کفن باندھ کر میدان میں اُترتی ہے کیونکہ یہ کوئی آسان کام تو ہے نہیں کہ ایک انسان کے اندر سے دوسرا انسان پیدا کیا جائے۔یہ عمل قدرتی ہے اللہ کی طرف سے اُس وقت ماں کو ہمت اور طاقت فراہم کی جاتی ہے جو کہ درد اور تکلیفوں کو برداشت کرکے اُس مشکل کام کو پورا کرتی ہے۔اب آپ خود ہی اندازہ لگاؤ کہ ایک عورت ہو کر وہ اتنی تکلیفوں اور مشکلات کر ڈٹ کر سامنا کرسکتی ہے تو ہم تو مرد ہیں ہمیں تو اللہ نے عورت سے زیادہ ہمت اور طاقت فراہم کی پھر ہم کیوں نہیں مشکلات کا سامنا کرسکتے۔

اگرآپ کو اپنی زندگی میں کوئی بھی کام مشکل لگتا ہے تو اُس کو آسان بنانے کیلئے اُس کام کو کرنے سے پہلے اچھی طرح اُس کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں اور اگر پھر بھی آپ کو لگے کہ آپ یہ کام نہیں کرسکتے تو اس کام کو چھوڑنا نہیں بلکہ اس کام کو کرنے کے بارے میں سیکھیں کسی دوست سے سیکھ سکتے ہیں، کسی ٹریننگ انسٹیٹیوٹ سے سیکھ سکتے ہیں، یا پھر اُن لوگوں سے جا کر بھی سیکھ سکتے ہیں جو متعلقہ کام کررہے ہیں۔ویسے بھی آج کے جدید دور میں کوئی بھی کام سیکھنا مشکل نہیں ہے کیونکہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ نے آج ہماری زندگی کے تقریباً تمام شعبہ جات میں آسانیاں پیدا کردی ہیں آج ہمیں ہر طرح کی ٹریننگ اور معلومات انٹرنیٹ پر مل جاتی ہیں




اس با ت کے پیچھے ایک بہت بڑی تحقیق ہے وہ تحقیق یہ کہتی ہے کہ جس بات کو ہم یقین کیساتھ مانتے ہیں وہی حقیقت بن جاتی ہے۔ دوسری بات کوئی بھی کام پہلی دفعہ آسان نہیں ہوتا لیکن اگر اُسی کام کو بار بار کرتے رہیں تووہ کام ہمارے لئے آسان بن جاتا ہے۔جب کسی کام کو ہم کرنا سیکھ جاتے ہیں اس کی مہارت حاصل ہوجاتی ہے تو اُس کام کو کرنے کی مشکل دور ہوجاتی ہے۔اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ اگر کوئی انسان پہلی دفعہ روٹی پکانا چاہتا ہے تو یہ ضروری نہیں کہ پہلی دفعہ روٹی صحیح پکے ہوسکتا ہے کہ پہلی دفعہ روٹی جل جائے ہوسکتا ہے کہ پہلی دفعہ روٹی ٹیڑھی بنے۔اسی طرح جس کو ڈرائیونگ نہیں آتی یہ ضروری نہیں کہ پہلی دفعہ وہ ڈرائیونگ صحیح کرے ہوسکتا ہے شروع میں اُسے بہت مشکل ہو گی مگر جب وہ اس کی مہارت حاصل کرلے گا تب یہی مشکل کام اُس کے لئے انتہائی آسان کام ہوجائے گا۔تو مشکل سمجھنے سے مشکل حل نہیں ہوتی بلکہ مشکل کو کرنے سے مشکل حل ہوتی ہے کسی ماہر کے لئے کام کرنا انتہائی آسان ہوتا ہے اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کا کام آسان ہوجائے تو آپ اپنے اُس کام کے ماہر بن جائیں وہ کوئی بھی کام ہوسکتا ہے آپ کی ملازمت سے متعلقہ بھی ہوسکتا ہے یا پھر اگر آپ کاروبار کررہے ہیں تو آپ کے کاروبار سے متعلق ہوسکتا ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ آپ اس کام کے ماہر بن جائیں۔خوشی کی بات تو یہ ہے کہ کسی بھی کام کی مہارت کو سیکھا جاسکتا ہے

مثلاً اگر آپ کپڑے کا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں تو اُس کیلئے ضروری ہے کہ آپ پہلے اُس کام کو سیکھو کیونکہ اگر آپ سیکھے بغیر اُس کو شروع کرو گے تو ممکن ہے کہ یہ کام آپ کو مشکل لگے لیکن اگر آپ شروع کرنے سے پہلے اپنے کسی دوست، عزیز، رشتہ دار یا کسی اجنبی کی دوکان یا شوروم پر کم سے کم چھ ماہ کام کرنے کے بعد یہ کاروبار شروع کریں گے تو اس چھ ماہ کے عرصے میں آپ کپڑے کی کوالٹی اور قیمتوں کے بارے میں اچھی طرح سے واقف ہوجائیں گے اور جب آپ کو یہ سب معلوم ہوجائے اور آپ مہارت حاصل کرلیں کہ کپڑا کہاں سے لانا ہے اور کونسی کوالٹی کا کپڑا کتنی قیمت کا بیچنا ہے تو پھر آپ اپنا کاروبار شروع کریں اس طرح آپ کو یہ کام مشکل بھی نہیں لگے گا اور اس میں ناکامی کے بھی چانس بہت کم ہوتے ہیں کیونکہ میرے خیال سے انسان کسی بھی کام میں ناکام اس وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ اُس کو وہ کام کرنا نہیں آتا جو وہ کرنا چاہتا ہے۔
آپ نے بس اتنا کرنا ہے کہ اُس کام کو تب تک کرتے رہنا ہے جب تک کہ آپ اُس کو سیکھ نہیں جاتے جب آپ کو اُس کام کی مہارت حاصل ہوجائے گی تب وہی کام نہ صرف آپ کیلئے انتہائی آسان ہوجائے گا بلکہ آپ اُس کام کو کرنے سے لُطف اندوز بھی ہوں گے۔

کامیابی کی جتنی بھی داستانیں ہیں وہ سب یقین، محنت، عظم اور شوق سے لکھی گئی ہیں۔ جس کام کو شوق سے نہ کیا جائے وہ آسان نہیں ہوتا اور جس کام کو شوق سے کیا جائے وہ مشکل نہیں رہتا۔

کامیاب لوگ تو ناکامی کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں کیونکہ اُن کیلئے ناکامی روکاوٹ نہیں ہوتی بلکہ آگے بڑھنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔ انسان کیلئے سب سے بڑی روکاوٹ ناکامی کا خوف ہے کامیاب لوگوں کا یقین مضبوط ہوتا ہے وہ اپنے کام کو سیکھتے ہیں اور اُس کی مہارت حاصل کرتے ہیں وہ اپنے کام کو اُس وقت تک کرتے ہیں جب تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرلیتے۔ یونہی مجبور ی کے تحت نہیں کرتے وہ اپنے کام کو شوق سے کرتے ہیں میرے خیال سے دنیا میں کامیابی کا یہی ایک راستہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں